دعوتِ حق کے میدان میں داعی کی معتبریت اور امانت داری (credibility and trustworthiness) بنیادی اور ناگزیر حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنی منہاج میں انبیا کی یہ صفت خاص طور پر نمایاں کی گئی ہے کہ وہ اپنی قوم کے سامنے بحیثیتِ امین پیش آئے۔ مخاطب کے دل میں جب تک داعی کی دیانت، بے غرضی اور راست بازی کا غیر متزلزل یقین قائم نہ ہو، اس وقت تک دعوت کا کوئی بھی پیغام سنجیدگی سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایک حقیقی داعی ہمیشہ معروضی حقائق (objective reality) کی بنیاد پر حق بات کہتا ہے، جہاں اس کی نگاہ میں گروہی تعصب (communal/group prejudice) یا یہ اندیشہ کبھی حائل نہیں ہوتا کہ اپنی قوم یا برادری کا کیا ردِ عمل ہوگا۔ جب انسان ذاتی اور اجتماعی مفادات سے بالاتر ہو کر خالص سچائی کا علم بردار بنتا ہے، تو اس کی اخلاقی ساکھ بلا تفریقِ مذہب و مسلک ہر طبقے میں تسلیم کر لی جاتی ہے۔
اس غیر جانب دارانہ اور بے داغ کردار کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مخالف اور مختلف الخیال فکری رہنما بھی داعی کی عظمت اور سچائی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ دعوت کی راہ میں سب سے بڑا سرمایہ اخلاقی دیانت داری ہے، جس کی خاطر داعی کو اپنے تمام معاملات اور حسابات میں مکمل شفافیت (financial transparency) برتنا ہوتی ہے تاکہ اس کی ذات اور تحریک پر مالی یا عملی اعتبار سے کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ داعی کا یہ اسلوب ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان تفریق قائم کیے بغیر ہر دروازے پر حق کا پیغام پہنچانے کے لیے تیار رہتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق انسان سے بحیثیتِ انسان ہوتا ہے نہ کہ کسی خاص گروہ کے نمائندے کی حیثیت سے۔
معتبریت کا یہ اعلیٰ ترین معیار محض دعووں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے داعی کو بسا اوقات اپنے جائز حقوق اور مادی مفادات کی قربانی (material sacrifice) دینا پڑتی ہے۔ دعوت کے عمل میں سب سے کٹھن موڑ وہ ہوتا ہے جہاں داعی کو بظاہر ناانصافی (injustice) کا سامنا ہو، مگر وہ اپنی اخلاقی ساکھ کو مجروح ہونے سے بچانے کی خاطر انصاف کے تقاضے (demand for justice) سے بھی دست بردار ہو جاتا ہے۔ اگر داعی دنیاوی نزاعات، املاک کی واپسی یا عدالتی انصاف کے حصول میں الجھ جائے، تو اس کا اصل دعوتی تشخص مجروح ہوتا ہے اور مخاطب کے ذہن میں اس کی بے غرضی مشکوک ہو جاتی ہے۔ چنانچہ دعوت کے بلند تر مقاصد کے لیے اپنے مادی حقوق سے اعراض (art of avoidance/foregoing rights) کرنا داعی کی ناگزیر صفت ہے۔
سیرتِ نبوی میں اس اصول کی واضح ترین مثال فتحِ مکہ کے موقع پر ملتی ہے۔ جب اہلِ ایمان کو مادی غلبہ اور اقتدار حاصل ہو گیا، تو بعض مکی صحابہ نے یہ تقاضا کیا کہ ہجرت کے دوران چھوڑی ہوئی جائیدادیں اور مکانات، جن پر مخالفین قابض ہو چکے تھے، اب انہیں واپس دلائے جائیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے اور اپنے رفقا کے لیے ماضی کے نقصانات کی تلافی یا وراثتی جائیدادوں کی بازیابی کا کوئی مطالبہ منظور نہیں فرمایا، بلکہ فوراً واپسی کا سفر اختیار کر کے اس نوعیت کے تمام مادی مطالبات کو ختم کر دیا۔ آپؐ نے وقتی مادی انصاف پر اپنے دعوتی مشن کی بے لوث اور بے داغ حیثیت کو ترجیح دی، تاکہ تاریخ میں یہ بات ثابت ہو جائے کہ اہل حق کا مطمحِ نظر مادی فوائد نہیں بلکہ صرف اور صرف رضائے الٰہی اور دعوتِ حق کی امانت داری تھی۔
دعوتی تاریخ کا یہ سبق ہمیشہ کے لیے قائم ہے کہ ایک عظیم مقصد کی خاطر ذاتی یا گروہی انصاف کے مطالبات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی معتبریت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے۔ اگر ایسے افراد یا ایسا گروہ تیار ہو جائے جو ناانصافی کے ماحول میں بھی اپنے اندر ردِ عمل یا مادی مطالبات پیدا نہ ہونے دے، اور اپنے بے داغ کردار کی حفاظت کرے، تو یہ عصرِ حاضر میں ایک عظیم اخلاقی معجزہ (moral miracle) ہوگا، جس کے نتیجے میں دلوں کے بند دروازے اور دعوتِ دین کی راہیں خود بخود کھلتی چلی جائیں گی۔
(a) Shu‘ayb’s community was the progeny of Abraham. The central city of the area which they inhabited was Tabuk. The old name of Tabuk was Ayka, which literally means ‘the forest.’ That is why, in the Quran, it is called Ashab al-Ayka (the dwellers of the forest). The root cause of all moral and social evils is setting double standards. Just conduct for a man is to give others their rightful due, and take for himself what rightfully belongs to him. This is the Divine ‘balance’. When this is upset, disturbance occurs in collective social life. The secret of maintaining this balance is the fear of God. If the fear of God goes out of the heart, nothing can make a man keep his moral equilibrium. All the prophets who had appeared on behalf of God had told their addressee communities: ‘I am a trustworthy Messenger to you.’ This shows that a preacher should necessarily have the quality of trustworthiness. One aspect of this trustworthiness is that he should not raise any material or economic issue with his addressee community, so that there should never be any doubt about the selflessness of his purpose. This trustworthiness is so important that it should be fostered at any cost, even if the preacher of truth has, voluntarily, to forego his material rights for its sake.